کمیٹی (بی سی) ڈالنے کا حکم

سوال



کمیٹی کھولنا کیسا ہے، یعنی دس بارہ لوگ یا چند لوگ مل کر کچھ روپیہ جمع کرتے ہیں اور جو کمیٹی چلانے والا ہوتا ہے، وہ پورا روپیہ پہلے مہینہ اٹھا لی

 

 

جواب

 

کمیٹی (بیسی)کامروجہ طریقہ قرض کے لین دین کامعاملہ ہے جس کا مقصد باہمی تعاون وتناصرہے ۔یہ معاملہ مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ جائز ہے :

بی سی (کمیٹی) میں تمام شرکاء برابر رقم جمع کرائیں، اور انہیں برابر رقم دی جائے اورتمام شرکاءاخیرتک شریک رہیں (ایسانہ ہوکہ جس کی کمیٹی نکلتی جائےوہ بقیہ اقساط سے بری الذمہ ہوتاجائے) اور بولی لگاکر فروخت نہ کی جائے تو اس طرح کی بی سی (کمیٹی) ڈالنا جائزہے۔

اگر اس میں غلط شرائط لگائی جائیں، مثلاً: کسی کو کم، کسی کو زیادہ دینے کی شرط یا بولی لگاکر فروخت کی جائے یا جس کی کمیٹی نکلتی جائے وہ بقیہ اقساط سے بری الذمہ قرار پائے تو یہ صورتیں جائز نہیں ہیں،  بعض صورتیں سود  اور بعض جوے  اور سود کے زمرے میں داخل ہوں گی۔

اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ ہر شریک کو ہر وقت بطورِ قرض دی ہوئی اپنی رقم واپس لینے کے مطالبہ کا پورا حق ہو، اس پر جبر نہ ہو۔

نیز تمام شرکاء  کی باہمی رضامندی سے اگر ابتداءً یہ طے ہوجائے کہ پہلی کمیٹی منتظم لے گا تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

لہذا صورتِ  مسئولہ میں تمام شرکاء کی رضامندی سے منتظم کا پہلے مہینے کمیٹی لینا جائز ہے، لیکن درمیان میں لینے والے کو  کم پیسے دینا اور آخر میں لینے والے کو زیادہ پیسے دینا جائز نہیں ہے۔اس شر  ط کے ہوتے ہوئے یہ کمیٹی ناجائز  ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: کل قرض جر نفعاً فهو  حرام) أی اذا کان مشروطاً."

(ج:۵،ص:۱۶۶،ط:سعید) 

 

واللہ اعلم باالصواب دارلافتاء مظہر العلوم طالب دعا مولوی عبدالستار حسنی صاحب


Khadam Ali

35 Articles posts

Comments