قضاء نمازوں کا وقت اور صاحبِ ترتیب کا حکم

سوال

کیا نمازوں کی ادائیگی ظہر، عصر یا مغرب کے ساتھ ہو سکتی ہے۔ یا ظہر کے ساتھ صرف ظہر ہی پڑھ سکتے ہیں علیٰ ھذا القیاس عشاء کی نماز کے وقت اگر عشاء قضا پڑھنی ?

جواب

قضاء نمازوں کی ادائیگی کے لیے شرعاً کوئی خاص وقت متعین نہیں ہے۔ ممنوع اوقات (سورج طلوع ہونے کے وقت، زوال کے وقت اور غروب کے وقت) کے علاوہ کسی بھی وقت ادا کی جا سکتی ہیں۔ اور ہر نماز کے ساتھ ایک قضاء نماز پڑھنا بھی ضروری نہیں ہے بلکہ جب بھی موقع ملے اور جتنی ہو سکیں ادا کرنا جائز ہے۔

 

صاحب ترتیب کے لیے نمازوں میں ترتیب کا لحاظ رکھنا یعنی آئندہ نماز پڑھنے سے پہلے قضا نماز پڑھنا ضروری ہے اور جو شخص صاحب ترتیب نہ ہو اس کے لیے ترتیب کا لحاظ رکھنا ضروری نہیں ہے۔

 

صاحب ترتیب اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کے ذمہ نماز فرض ہونے کے بعد سے لے کر ابھی تک چھ نمازیں قضا نہ ہوں اور وہ شخص جس کے ذمہ چھ نمازیں ہوں خواہ وہ پرانی ہوں یا نئی ہوں مسلسل چھوڑی ہوں یا متفرق چھوڑی ہوں صاحب ترتیب نہیں ہے۔مطلب جس سے پانچ نماز تک قضا ہوئی ہیں یاایک دو قضا ہوئی ہیں اس پر لازم ہے کہ قضائے نماز آپنی وقت کہ نماز سے پہلے اداکرے اگر اسے قضائے نماز یادہے ان کی یہ وقت کانماز صحیح نہیں ہوتا جب تک انہونی قضائے نماز ادا نہے کیاہے اور جس سے چھ نماز یازیادہ قضائے ہوئی ہے اس پر یہ ترتیب لازم نہے ہے اس کیلے درست ہے قضائے نماز آپنے وقت کی نماز سے پہلے پڑھ لیں یابعد میں دونوں حالت میں صحیح ہے۔

 

عشاء کی قضا نماز کے ساتھ وتر پڑھنا بھی واجب ہے۔

 

لما فی ’’الہندیہ‘‘

 

والقضاء فرض فی الفرض و واجب فی الواجب۔ ثم لیس للقضاء وقت متعین الخ۔ (۱/۱۳۴)

 

وفیہ أیضاً:

 

الترتیب بین الفائتۃ والوقتیۃ وبین الفوائت مستحق الخ۔ (۱

واللہ اعلم  طالب دعا خادم علی گجر


Khadam Ali

35 Articles posts

Comments