فیملی سٹوری پارٹ1

یہ ایک بہت ہی مزے دار سٹوری ہے اگر آپ دوستوں کو پسند آے تو کمنٹ لازمی کرہیں اگلے پارٹ کے لیے

فیملی

قسط نمبر 01 

 

1.میرے دادا جی نام پیر خان، عُمر 70 سال

 

2. میری دادی جی نام راحیلہ بیگم، عُمر  65 سال

 

3. میرے آبا نام ثابت خان، عُمر 44 سال

 

4. میری اماں نام رخسانہ بیگم، عمر 40 سال 

 

5. میرا بڑا بھائی نام نعمان خان، عمر 20 سال

 

6. میری بڑی بھابھی نام صائمہ نعمان عمر  18 سال

  

7. میری بڑی بہن نام فیریہ، عمر 22 سال

 

8. میری دوسری بڑی بہن نام فرحانہ، عمر 21 سال

 

 9. میرا نام وجاہت واہجی، عمر 18 سال

 

اور سب سے لاسٹ میں میری پیاری سی جڑواں بہن 10. نام علیزہ، عُمر 18 سال

 

باقی میں آپ کو کہانی کے ساتھ ساتھ بتاتا جاؤں گا

 

میرا نام وجاہت واہجی عُمر 17 سال ہے گھر میں کالیج میں پیار سے سب مجھے واہجی کہتے ہیں

 

ہم  پنجاب کے ایک چھوٹے سے شہر کے چھوٹے سے گاؤں میں رہتے ہیں

 

 ہماری فیملی مڈل کلاس فیملی ہے

 

 آبا اور دادا نے کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائے جو بھی بنایا اپنی محنت سے بنایا 

 

 دادا جی اپنے زمانے میں پہلوانی اور کبڈی کے بڑے شوقیں ره چکے ہیں

 

دھنگل لگوانا کبڈی کے مقابلے یہ دو چیزیں دادا جی کو بہت پسند ہیں ویسے بھی یہ ہمارے گاؤں کی ایک تہذیب تھیں

 

خیر دادا جی نے اپنے دونوں بیٹوں یعنی میرے آبا اور چاچا پر خوب محنت کی اور اُنہِیں مضبوط بنایا

 

میرے آبا زمینوں کی کھیتی اور دوسرے کو پڑھائی لکھائی میں لگایا

 

ہماری کوئی 10 ایکڑ زمین تھی جس میں موسمِیات سبزیاںِ میوے پھل لیا کرتے تھے

 

 دادا جی نے ایک ایکڑ زمین پے باغ باغیچے لگائے کیوں کے اُس کے ساتھ ہی ایک ندی بہتی تھی

 

 جس کے پانی سے اُس کو سہراب کیا جاتا

 

باغ مین طرح طرح کے پھلدار پودے اور سبزی تھی ایک کونے مین ایک ٹیوب ویل تھا 

 

جس کے ساتھ 2 کمرے بنے ہوئے اور پیچھے کی طرف ایک واڑا تھا 

 

جس میں (گائے) (بھینس) باندی جاتی وہیں ایک کمرے مین چارہ اور بھوسا رکھا جاتا

 

وہیں ایک برامدا بنا تھا جس میں ایک طرف سے چارہ کاٹنے والی مشین لگی ہوئی تھی 

 

ٹیوب ویل کے ساتھ والے 2 کمروں میں سے ایک میں بستر ساتھ ہی 2 چارپائی پڑی ہوئی تھیں اور دوسرے کمرے مین کرسی اور ٹیبل جیسے کے ایک طرح کی بیٹھک تھی

 

کمروں کی چھت لوہے کی تھی تا کے گرمی میں بھی ٹھنڈی رہے  یہ سیٹ دادا جی نے بنوایا تھا 

 

دادا جی کے اور آبا کے دوست آتے تھے تو وو باغ والے ڈیرے پے ہی ٹھہرتے تھے

 

لیکن کبھی بی دادا، آبا اور چاچو نی کسی دوست اور پرائے مرد کو اپنے گھر میں نہیں آنے دیا اور نائی لائے 

 

کیوں کے وو مانتے تھے کے گھر کی عورتیں ہماری عزت ہے اُنہیں غیر مردوں کے سامنے نہیں آنا چائیے

 

اور جیتنا ہو سکے اپنی عزت کو غیر نظروں سے محفوظ رکھنا چاہئے وو جگری دوست ہی کیوں نہ ہو 

 

یہ بات دادا جی نے آبا چاچو اور ہم دونوں بھائیوں کو سمجھائی گھر کی عورتیں ہمیشہ پردے میں اچھی لگتی ہیں 

 

اگر گھر کی عورتیں شہر شاپنگ کے لئے جاتی تُو اُن کے ساتھ کوئی گھر کا مرد جاتا

 

اور وو بی مکمل پردے کے ساتھ ہماری بہن اور کزن اسکول کالج وغیرہ کو جاتی تو وہ بھی پردے میں اور گاؤں کی ایک گاڑی اُنہیں لے جاتی اور لے آتی،

 

یہاں تک سب ٹھیک چل رہا تھا آبا کھیتوں پے کام کرتے،

 

اور دادا جی زیادہ تر کھیتوں پر ہوتے کبھی بیٹھک میں یا تو پھر باغ میں چارپائی لگا لیتے،

 

اور میرے چاچو شہر کے سرکاری اسکول میں ٹیچر لگ گئے،

 

ہمارے کھیت گھر سے کوئی 1 کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں پھر اچانک ہماری زندگی میں ایک حادثہ پیش آیا

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


Aqsa Jutti

2 Articles posts

Comments